ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ریاست میں شہریت قانون ہر حال میں نافذ ہوگا مخالفت کی پرواہ نہیں کی جائے گی۔ مرکزی حکومت کی ہدایت سے پہلے ہی ایڈی یورپا کی بے قراری

ریاست میں شہریت قانون ہر حال میں نافذ ہوگا مخالفت کی پرواہ نہیں کی جائے گی۔ مرکزی حکومت کی ہدایت سے پہلے ہی ایڈی یورپا کی بے قراری

Thu, 19 Dec 2019 12:01:20    S.O. News Service

بنگلورو،19/دسمبر(ایس او  نیوز) ایک طرف مرکزی حکومت کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا ہے شہریت قانون کے تحت ملک بھر میں این آر سی نافذ کرنے کے لئے ابھی کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے اور اس سلسلہ میں بڑے بڑے اشتہار شائع کئے ہیں تو اس کے برعکس حکومت کرناٹک ریاست میں کسی بھی حال میں این آر سی نافذ کرنے کے لئے کافی بے قرار نظر آرہی ہے۔ دو دن قبل ریاست کے اعلی عہدیداروں کو اس کی تیاری کرنے کی ہدایت دینے کے بعد چہارشنبہ کے روزوزیر اعلیٰ ایڈی یورپا نے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے لائے جارہے شہریت قانون کو سب سے پہلے کرناٹک میں نافذ کیا جائے گا۔ شہر میں سیاحتی پالیسی کے متعلق کارگاہ میں شرکت کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایڈی یورپا نے کہا کہ شہریت قانون کے نفاذ میں جو بھی مخالفت ہو اس کی پرواہ کئے بغیر ریاستی حکومت اس کو نافذکرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں شہریت قانون کے تحت این آر سی نافذ کرنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کو ریاست میں مکمل طور پر نافذ کرنے کے لئے انہوں نے پہلے ہی اعلیٰ افسروں کو ہدایت دیدی ہے۔ ایڈی یورپا کا یہ اعلان اس بات کا عکاس ہے کہ اگر ریاست میں اس کو نافذ کرنے کی پہل کی گئی تو کرناٹک ملک میں پہلی ریاست ہو گی جہاں این آر سی نافذ کیا جائے گا۔ تاہم اس سلسلہ میں دیر شام مرکزی حکومت کی طرف سے اشتہار کے ذریعہ اس وضاحت کے باوجود کہ اب تک این آر سی نافذ کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے بیان اور افسروں کو ان کی ہدایت پر شکوک و شبہات کو ہوا دیتا ہے اگر مرکزی حکومت کی طرف سے ایسی کوئی ہدایت نہیں ملی تو وہ این آر سی کے نفاذ کی تیاری کس کی ایما پر کر رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ملک بھر میں این آر سی اور شہریت قانو ن کے خلاف پرزور احتجاجات کے برعکس کرناٹک میں اس کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کی کمزوری کا اندازہ لگاتے ہوئے انہوں نے مرکزی حکومت خاص طور پر بی جے پی اعلیٰ کمان کو خوش کرنے کے لئے ایسا فیصلہ کیا ہے۔


Share: